کافیہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - کفایت کرنا، کافی ہونا، سورہ فاتحہ کے بارہ ناموں میں سے چھٹا نام۔ "چھٹا نام اس سورت کا کافیہ ہے۔"      ( ١٩٥٩ء، تفسیر ایوبی، ١٣٦:١ ) ٢ - قواعدِ زبان یا صرف و نحو کے متعلق کیا ہوا معروف کام نیز صرف و نحو کی ایک مشہور کتاب کا نام۔ "جو عربی پڑھتے ہیں ان کا یہ حال ہے کہ کافیہ اور دوسری آسان کتابوں سے آگے نہیں پڑھتے۔"      ( ١٩٣٣ء، مرحوم، دہلی کالج، ٢٩ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'کافی' کے ساتھ 'ہ' بطور لاحقۂ تانیث لگانے سے 'کافیہ' بنا۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٠٥ء کو "آرائش محفل" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کفایت کرنا، کافی ہونا، سورہ فاتحہ کے بارہ ناموں میں سے چھٹا نام۔ "چھٹا نام اس سورت کا کافیہ ہے۔"      ( ١٩٥٩ء، تفسیر ایوبی، ١٣٦:١ ) ٢ - قواعدِ زبان یا صرف و نحو کے متعلق کیا ہوا معروف کام نیز صرف و نحو کی ایک مشہور کتاب کا نام۔ "جو عربی پڑھتے ہیں ان کا یہ حال ہے کہ کافیہ اور دوسری آسان کتابوں سے آگے نہیں پڑھتے۔"      ( ١٩٣٣ء، مرحوم، دہلی کالج، ٢٩ )

اصل لفظ: کافی
جنس: مؤنث