کام

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - فعل، عمل، اقدام، کار۔ "یہی وہ سوالات ہیں جن کا جواب دینا حکمائے اخلاقیات کا زیادہ تر کام رہا ہے۔"      ( ١٩٦٣ء، اصول اخلاقیات (ترجمہ)، ٣٠٨ ) ٢ - کسبِ معیشت کا وسیلہ یا ذریعہ (ملازمت، خدمت، محنت، مزدوری، بیوپار، کاروبار، دھندا، پیشہ)۔ "چلو یہ بجا ہے کہ کام کالا سہی لیکن اتنا تو کر سکتا ہوں کہ ڈاڑھی کی سنت پوری کرتا رہوں اس کی پیمائش جانتا ہوں۔"      ( ١٩٨٨ء، جب دیواریں گریہ کرتی ہیں، ٩٨ ) ٣ - ارادہ  رہیں آپ مضبوط اس کام پر خدا کی حضوری رکھیں دھیان دھر      ( ١٧٦٩ء، آخرگشت، ٩٧ ) ٤ - روزمرہ یا مقررہ وقت کا کام، وظیفہ، شغل۔  جو کام کو دے چکا ہو انجام فرصت طلبی سے اس کو کیا کام      ( ١٩٢٨ء، تنظیم الحیات، ٢٣ ) ٥ - سروکار، واسطہ۔  میں کروں فکر زیادہ یہ وہ ہنگام نہیں جس کو تم چاہو علم دو مجھے کچھ کام نہیں      ( ١٩١٧ء، گلزار رشید، ٤٣ ) ٦ - فن، ہنر۔ "کھانا پکانے کو ہم کام بلکہ ہنر جانتے ہیں اور جس طرح کا بھی کسی میں ہو، کمال اچھا ہے، یورپ نے ساری ترقی ہنر کی وجہ سے کی ہے۔"      ( ١٩٧٤ء، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، ٥٣ ) ٧ - صنعت (فن میں) قدرت اور جدت، دستکاری، فن پارہ، شاہکار۔ "وہ . اعلٰی درجے کی صنعت کا نمونہ ہیں، ان کا کام نہایت نفیس و نازک ہے۔"      ( ١٩٠٨ء، مخزن، جنوری، ٢٠ ) ٨ - زردوزی، گل کاری، نقاشی، بیل بوٹے۔ "چارخانے دار کوٹ اور واسکٹ، کمر پر سنہری کام کی بھاری بلٹ اور چارخانے دار کپڑے کی پتلون، سفری جوتوں میں ٹھنسی ہوئی۔"      ( ١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا (ترجمہ)، ٢٦٣ ) ٩ - کارکردگی، کارگزاری۔ "ان کا کام قیدیوں اور بھارتی حکام کے درمیان رابطے کا تھا۔"      ( ١٩٧٤ء، ہمہ یاران دوزخ، ١١٢ ) ١٠ - (دشوار) مرحلہ، مہم، مشکل، کار اہم " آج میں لکھنے کو ایک 'کام' سمجھتا ہوں، ایک ایسی سرگرمی جو کسی بھی دوسری سرگرمی کی طرح ہے۔"      ( ١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، مارچ، ٥١ ) ١١ - حاجت، ضرورت۔  ناصح اک بت سے ہے کام اک بندۂ اللہ کا جا کے سمجھا دے یہ سودا ہے خدا کی راہ کا      ( ١٩٢٥ء، دیوانِ شوق قدوائی، ٨ ) ١٢ - حوصلہ، ہمت۔ "جن پہاڑوں پر اس وقت جہاز اڑ رہا ہے ان میں گھر بسانا بڑی جان جوکھوں کا کام ہے۔"      ( ١٩٨٠ء، سفر نصیب، ٤٧ ) ١٣ - عہدہ یا منصب۔ "ان دنوں چابی سے متعلق جملہ کام حولادار میجر تارا سنگھ کے سپرد تھے۔"      ( ١٩٧٤ء، ہمہ یاراں دوزخ،١٠١ ) ١٤ - مشغولیت، مصروفیت۔  منجے یاد بن اس کے کچ کام نیں منجے ایک تل اُس بن آرام نیں      ( ١٦٠٩ء، قطب مشتری، ٥٥ ) ١٥ - عیاری، ہوشیاری، چالاکی۔  دیکھ کے مجھ کو منہ تو چھپایا اور حیا کا نام کیا واہ رہے تیری دانشمندی اس میں بھی اِک کام کیا      ( روشن، (فرہنگ آصفیہ) ) ١٦ - معاملہ، احوال۔  مر گیا جل جل کے یادِ شعلۂ رخسار میں سوزِ غم سے کام اپنا مثل مشعل ہو گیا      ( ١٨٨٤ء، دیوان انیس، ٦ ) ١٧ - ڈاک، ڈاک کی تھیلی۔ "آج کی ڈاک میں کام گئے۔"      ( ١٨٩٨ء، فرہنگ آصفیہ، ٤٣٢:٣ )

اشتقاق

اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٠٣ء کو "شرح تمہیداتِ ہمدانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فعل، عمل، اقدام، کار۔ "یہی وہ سوالات ہیں جن کا جواب دینا حکمائے اخلاقیات کا زیادہ تر کام رہا ہے۔"      ( ١٩٦٣ء، اصول اخلاقیات (ترجمہ)، ٣٠٨ ) ٢ - کسبِ معیشت کا وسیلہ یا ذریعہ (ملازمت، خدمت، محنت، مزدوری، بیوپار، کاروبار، دھندا، پیشہ)۔ "چلو یہ بجا ہے کہ کام کالا سہی لیکن اتنا تو کر سکتا ہوں کہ ڈاڑھی کی سنت پوری کرتا رہوں اس کی پیمائش جانتا ہوں۔"      ( ١٩٨٨ء، جب دیواریں گریہ کرتی ہیں، ٩٨ ) ٦ - فن، ہنر۔ "کھانا پکانے کو ہم کام بلکہ ہنر جانتے ہیں اور جس طرح کا بھی کسی میں ہو، کمال اچھا ہے، یورپ نے ساری ترقی ہنر کی وجہ سے کی ہے۔"      ( ١٩٧٤ء، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، ٥٣ ) ٧ - صنعت (فن میں) قدرت اور جدت، دستکاری، فن پارہ، شاہکار۔ "وہ . اعلٰی درجے کی صنعت کا نمونہ ہیں، ان کا کام نہایت نفیس و نازک ہے۔"      ( ١٩٠٨ء، مخزن، جنوری، ٢٠ ) ٨ - زردوزی، گل کاری، نقاشی، بیل بوٹے۔ "چارخانے دار کوٹ اور واسکٹ، کمر پر سنہری کام کی بھاری بلٹ اور چارخانے دار کپڑے کی پتلون، سفری جوتوں میں ٹھنسی ہوئی۔"      ( ١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا (ترجمہ)، ٢٦٣ ) ٩ - کارکردگی، کارگزاری۔ "ان کا کام قیدیوں اور بھارتی حکام کے درمیان رابطے کا تھا۔"      ( ١٩٧٤ء، ہمہ یاران دوزخ، ١١٢ ) ١٠ - (دشوار) مرحلہ، مہم، مشکل، کار اہم " آج میں لکھنے کو ایک 'کام' سمجھتا ہوں، ایک ایسی سرگرمی جو کسی بھی دوسری سرگرمی کی طرح ہے۔"      ( ١٩٩٠ء، قومی زبان، کراچی، مارچ، ٥١ ) ١٢ - حوصلہ، ہمت۔ "جن پہاڑوں پر اس وقت جہاز اڑ رہا ہے ان میں گھر بسانا بڑی جان جوکھوں کا کام ہے۔"      ( ١٩٨٠ء، سفر نصیب، ٤٧ ) ١٣ - عہدہ یا منصب۔ "ان دنوں چابی سے متعلق جملہ کام حولادار میجر تارا سنگھ کے سپرد تھے۔"      ( ١٩٧٤ء، ہمہ یاراں دوزخ،١٠١ ) ١٧ - ڈاک، ڈاک کی تھیلی۔ "آج کی ڈاک میں کام گئے۔"      ( ١٨٩٨ء، فرہنگ آصفیہ، ٤٣٢:٣ )

جنس: مذکر