کامل

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جس میں اپنی نوع کے جزئیات کے اعتبار سے کوئی نقص وغیرہ نہ ہو، مکمل پورا، تمام (ادھورا کی ضد)۔ "تنقید کامل بصیرت و علم کے ساتھ، موزوں و مناسب طریقے سے . حکم لگاتا ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، اشارات تنقید، ٣ ) ٢ - (اپنے علم یا فن میں) ماہر، استاد۔ "علماء کے لیے صدر امین اور صدرالصدور ہونا دشوار نہ تھا بلکہ ایسے کامیلین کے لیے یہ عہدے مخصوص ہو گئے تھے۔"      ( ١٩١٠ء، امیر مینائی، مکاتیب امیر، ١٤ ) ٣ - عارف، خدا رسیدہ۔ "یہ ایک بڑے کامل فقیر نے مجھکو پڑھ دیا ہے۔"      ( ١٨٩٠ء، طلسم ہوشربا، ٥٩:٤ ) ٤ - [ عروض ]  ایک بحر کا نام جس کا وزن مفاعِلُن، 8 بار ہے، بحر کامل۔ "امیر نے چوبیس بحروں میں تالیں ایجاد کی ہیں، جن کے اقسام حسب ذیل ہیں: بحر کامل . بحر وافر۔"      ( ١٩٦٠ء، حیاتِ امیر خسرو، ١٨٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ عربی سے اردو میں حقیقی معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس میں اپنی نوع کے جزئیات کے اعتبار سے کوئی نقص وغیرہ نہ ہو، مکمل پورا، تمام (ادھورا کی ضد)۔ "تنقید کامل بصیرت و علم کے ساتھ، موزوں و مناسب طریقے سے . حکم لگاتا ہے۔"      ( ١٩٨٩ء، اشارات تنقید، ٣ ) ٢ - (اپنے علم یا فن میں) ماہر، استاد۔ "علماء کے لیے صدر امین اور صدرالصدور ہونا دشوار نہ تھا بلکہ ایسے کامیلین کے لیے یہ عہدے مخصوص ہو گئے تھے۔"      ( ١٩١٠ء، امیر مینائی، مکاتیب امیر، ١٤ ) ٣ - عارف، خدا رسیدہ۔ "یہ ایک بڑے کامل فقیر نے مجھکو پڑھ دیا ہے۔"      ( ١٨٩٠ء، طلسم ہوشربا، ٥٩:٤ ) ٤ - [ عروض ]  ایک بحر کا نام جس کا وزن مفاعِلُن، 8 بار ہے، بحر کامل۔ "امیر نے چوبیس بحروں میں تالیں ایجاد کی ہیں، جن کے اقسام حسب ذیل ہیں: بحر کامل . بحر وافر۔"      ( ١٩٦٠ء، حیاتِ امیر خسرو، ١٨٥ )

اصل لفظ: کمل
جنس: مذکر