کاٹ

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - (تلوار وغیرہ کی) برش، کاٹنے کی قوت و صلاحیت۔ "تلوار کی تعریف اس کی کاٹ اور تیزی و طراری کے بیانات میں مرثیہ گویوں نے قوت تخیل کے حیرت انگیز جوہر دکھائے ہیں۔"    ( ١٩٨٣ء، اصناف سخن اور شعری ہیتیں، ٨٨ ) ٢ - تیزی، چُبھن۔ "کالم نویس کے لیے لازم ہے کہ اسے سیاسی شعور حاصل ہو اور اس کی طنز میں کاٹ ہو۔"    ( ١٩٨٤ء، اوکھے لوگ، ٤١ ) ٣ - کاٹنا۔ "محضر میں . ڈول لگایا گیا تھا، اس طرح محضر کی ہر ایک کاٹ سے ایک گاڑی پوری بھر جاتی تھی۔"    ( ١٩٤٤ء، مٹی کا کام (ترجمہ)، ٥٣ ) ٤ - کاٹا جانا، ذبح کیا جانا۔ "اس سے احوال کاٹ باوا صاحب کے مرغ کا اور شیخ احمد رفاعی کے بکرے کا اور شاہ مدار کی گائے کا حکم معلوم ہوا۔"    ( ١٨٦٠ء، فیض الکریم، ١١٢ ) ٥ - زخم، گھاؤ، شگاف، چرکا۔ "تھوڑی سی چھال نکال دی جائے یا اس میں کاٹ بنا دی جائے تو جلد جڑ پیدا ہو جاتی ہے۔"    ( ١٩٠٩ء، تربیت جنگلات، ٢٦١ ) ٦ - تراش، قطع، بیونت۔ "فیض اس وقت جوان رعنا تھے اور سیاہ شیروانی اور علیگڑھ کاٹ کے پاجامے میں ملبوس بہت اچھے لگ رہے تھے۔"      ( ١٩٨٨ء، افکار، کراچی، نومبر، ٢١ ) ٧ - عداوت، بیر، دشمنی، مخالفت۔  جلال اس کو تقدیر کی کاٹ سمجھو گلا کاٹوں میں اپنا قاتل کے آگے    ( ١٩٠٣ء، نظم نگاریں، ١٦٧ ) ٨ - ضرر رسانی، نقصان پہنچانا۔ "پولٹیکل گروہ کنسروٹو، لیبرل . ایک کی کاٹ میں ایک لگا رہتا ہے۔"    ( ١٨٨٨ء، لیکچروں کا مجموعہ، ١٢٤:١ ) ٩ - دفیعہ، توڑ، رد۔ "ارباب سیاست کی ان سرگرمیوں کی کاٹ ادب اور صرف ادب کے پاس ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، تہذیب و فن، ١٦٠ ) ١٠ - کاٹے جانے کا نشان (دھار دار آلے سے پڑا ہو)، خراش۔ "بغیر خراش یا داغ دھبے اور سوراخ یا کسی قسم کا کاٹ کا زخم چمڑا براؤن گلدسکڈ کے لیے الگ کر لیا جاتا ہے۔"      ( ١٩٥٠ء، چرم سازی، ١٥٧ ) ١١ - پانی کے بہاؤ سے کنارہ اڑ جائے یا غار پڑ جانے کی نشانی، کٹاؤ۔ (ماخوذ: نوراللغات) ١٢ - چرراہٹ جو کسی تیز دوا سے زخم میں ہوتی ہے خراش، چھیلن۔ (فرہنگ آصفیہ) ١٣ - تکلیف دینے کی کیفیت، ایذا رسانی۔ "یہاں کے موسم میں جو تھوڑی بہت کاٹ تھی وہ ختم ہو چکی۔"      ( ١٩٥٢ء، صلیبیں میرے دریچے میں، ٣٥ ) ١٤ - [ حرب و ضرب ]  ایک قسم کا وار جو طمانچہ یا باہرہ اور جینو کی طرح پڑتا ہے (اوّل کو سیدھا کاٹ اور آخر کو الٹا کاٹ کر کہتے ہیں)۔ "بایاں کاٹ، باہری اور جینو کی طرح حریف کے بائیں جانب (سر سے پاؤں تک جہاں چاہے)۔"      ( ١٩٢٥ء، فن تیغ زنی، ١١ ) ١٥ - کٹاؤ۔ "اس تعدیلی سطح کی وہ کاٹ جو جھکاؤ کی سطح سے پیدا ہوتی ہے اور جو شکل میں NLسے ظاہر ہے۔ تعدیلی محور کہلاتی ہے۔"      ( ١٩٦٥ء، مادے کے خواص، ٤٠٤ ) ١٦ - (گیند وغیرہ کو مارتے وقت) ترچھا ہاتھ، ترچھی ضرب۔ "گالف میں کاٹ کو روکنا اس قدر دشوار اس لیے ہوتا ہے ہمیں صحیح مار اور کاٹ کے درمیان فرق کافی واضح معلوم نہیں ہوتا۔"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ١٨٤ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٣٩ء کو "کلیات سراج" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - (تلوار وغیرہ کی) برش، کاٹنے کی قوت و صلاحیت۔ "تلوار کی تعریف اس کی کاٹ اور تیزی و طراری کے بیانات میں مرثیہ گویوں نے قوت تخیل کے حیرت انگیز جوہر دکھائے ہیں۔"    ( ١٩٨٣ء، اصناف سخن اور شعری ہیتیں، ٨٨ ) ٢ - تیزی، چُبھن۔ "کالم نویس کے لیے لازم ہے کہ اسے سیاسی شعور حاصل ہو اور اس کی طنز میں کاٹ ہو۔"    ( ١٩٨٤ء، اوکھے لوگ، ٤١ ) ٣ - کاٹنا۔ "محضر میں . ڈول لگایا گیا تھا، اس طرح محضر کی ہر ایک کاٹ سے ایک گاڑی پوری بھر جاتی تھی۔"    ( ١٩٤٤ء، مٹی کا کام (ترجمہ)، ٥٣ ) ٤ - کاٹا جانا، ذبح کیا جانا۔ "اس سے احوال کاٹ باوا صاحب کے مرغ کا اور شیخ احمد رفاعی کے بکرے کا اور شاہ مدار کی گائے کا حکم معلوم ہوا۔"    ( ١٨٦٠ء، فیض الکریم، ١١٢ ) ٥ - زخم، گھاؤ، شگاف، چرکا۔ "تھوڑی سی چھال نکال دی جائے یا اس میں کاٹ بنا دی جائے تو جلد جڑ پیدا ہو جاتی ہے۔"    ( ١٩٠٩ء، تربیت جنگلات، ٢٦١ ) ٦ - تراش، قطع، بیونت۔ "فیض اس وقت جوان رعنا تھے اور سیاہ شیروانی اور علیگڑھ کاٹ کے پاجامے میں ملبوس بہت اچھے لگ رہے تھے۔"      ( ١٩٨٨ء، افکار، کراچی، نومبر، ٢١ ) ٨ - ضرر رسانی، نقصان پہنچانا۔ "پولٹیکل گروہ کنسروٹو، لیبرل . ایک کی کاٹ میں ایک لگا رہتا ہے۔"    ( ١٨٨٨ء، لیکچروں کا مجموعہ، ١٢٤:١ ) ٩ - دفیعہ، توڑ، رد۔ "ارباب سیاست کی ان سرگرمیوں کی کاٹ ادب اور صرف ادب کے پاس ہے۔"      ( ١٩٧٥ء، تہذیب و فن، ١٦٠ ) ١٠ - کاٹے جانے کا نشان (دھار دار آلے سے پڑا ہو)، خراش۔ "بغیر خراش یا داغ دھبے اور سوراخ یا کسی قسم کا کاٹ کا زخم چمڑا براؤن گلدسکڈ کے لیے الگ کر لیا جاتا ہے۔"      ( ١٩٥٠ء، چرم سازی، ١٥٧ ) ١٣ - تکلیف دینے کی کیفیت، ایذا رسانی۔ "یہاں کے موسم میں جو تھوڑی بہت کاٹ تھی وہ ختم ہو چکی۔"      ( ١٩٥٢ء، صلیبیں میرے دریچے میں، ٣٥ ) ١٤ - [ حرب و ضرب ]  ایک قسم کا وار جو طمانچہ یا باہرہ اور جینو کی طرح پڑتا ہے (اوّل کو سیدھا کاٹ اور آخر کو الٹا کاٹ کر کہتے ہیں)۔ "بایاں کاٹ، باہری اور جینو کی طرح حریف کے بائیں جانب (سر سے پاؤں تک جہاں چاہے)۔"      ( ١٩٢٥ء، فن تیغ زنی، ١١ ) ١٥ - کٹاؤ۔ "اس تعدیلی سطح کی وہ کاٹ جو جھکاؤ کی سطح سے پیدا ہوتی ہے اور جو شکل میں NLسے ظاہر ہے۔ تعدیلی محور کہلاتی ہے۔"      ( ١٩٦٥ء، مادے کے خواص، ٤٠٤ ) ١٦ - (گیند وغیرہ کو مارتے وقت) ترچھا ہاتھ، ترچھی ضرب۔ "گالف میں کاٹ کو روکنا اس قدر دشوار اس لیے ہوتا ہے ہمیں صحیح مار اور کاٹ کے درمیان فرق کافی واضح معلوم نہیں ہوتا۔"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ١٨٤ )