کاہل

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - سست، آرام طلب، کام چور۔ "کاہل تھی جاہل نہ تھی۔"      ( ١٩٠٠ء، خورشید بہو، ) ٢ - [ تصوف ]  مرید کاذب جو مرشد کامل کا نافرمان اور بے اعتقاد ہے اور اس کے قول یا فرمان کو نہیں مانتا، مردود طریقت۔ (ماخوذ، مصباح التعرف)

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سست، آرام طلب، کام چور۔ "کاہل تھی جاہل نہ تھی۔"      ( ١٩٠٠ء، خورشید بہو، )

اصل لفظ: ک،ہ،ل