کاہلیت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - سُستی، سست ہونا، کاہلی۔ "بعضے شخص بسبب کاہلیت . فرس کو چھوڑ دیتے ہیں۔"      ( ١٨٧٢ء، رسالہ سالوتر، ٣٨:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'کاہل' کے ساتھ 'یت' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'کاہلیت' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٧٢ء کو "رسالہ سالوتر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سُستی، سست ہونا، کاہلی۔ "بعضے شخص بسبب کاہلیت . فرس کو چھوڑ دیتے ہیں۔"      ( ١٨٧٢ء، رسالہ سالوتر، ٣٨:٢ )

اصل لفظ: کہل
جنس: مؤنث