کباڑی
معنی
١ - کاٹ کباڑ خریدنے اور بیچنے والا شخص، ٹوٹے پھوٹے اور پرانے سامان کا لین دین کرنے والا دکاندار۔ "پرانی چیزیں جمع کرنے کا شوق ہے اس لیے چوک پر بیٹھنے والے کباڑیوں میں گھومتے پھرتے ہیں۔" ( ١٩٦٧ء، اُجڑا دیار، ٣٦٣ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'کباڑ' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٦٧ء کو "مقالات محمد حسین آزاد" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کاٹ کباڑ خریدنے اور بیچنے والا شخص، ٹوٹے پھوٹے اور پرانے سامان کا لین دین کرنے والا دکاندار۔ "پرانی چیزیں جمع کرنے کا شوق ہے اس لیے چوک پر بیٹھنے والے کباڑیوں میں گھومتے پھرتے ہیں۔" ( ١٩٦٧ء، اُجڑا دیار، ٣٦٣ )