کبریا

قسم کلام: اسم معرفہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - خدا تعالٰی کا صفاتی نام۔  خرد سے کہہ دو کہ حب رسولۖ سے پہلے سمجھ میں آ نہ سکے گا کہ کبریا کیا ہے      ( ١٩٨٤ء، مرے آقا، ٣٥ ) ٢ - بزرگی، عظمت، بڑائی۔ "کبریا جس کے معنی بزرگی یہاں متکبر سے مراد ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، حقوق و الفرائض، ٣٣:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٤٢١ء کو "معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - بزرگی، عظمت، بڑائی۔ "کبریا جس کے معنی بزرگی یہاں متکبر سے مراد ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، حقوق و الفرائض، ٣٣:١ )

اصل لفظ: کبر