کبوتر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - فاختہ سے بڑا ایک پرندہ جو عموماً اڑانے کے لیے پالا جاتا ہے۔ (اگلے زمانوں میں اس سے نامہ بری کا کام لیا جاتا تھا)۔ "اس وقت نہ کبوتر کی کوئی خوبی تھی نہ نور جہاں کی۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٨٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فاختہ سے بڑا ایک پرندہ جو عموماً اڑانے کے لیے پالا جاتا ہے۔ (اگلے زمانوں میں اس سے نامہ بری کا کام لیا جاتا تھا)۔ "اس وقت نہ کبوتر کی کوئی خوبی تھی نہ نور جہاں کی۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٨٢ )

اصل لفظ: کپوٹا
جنس: مذکر