کتا
معنی
١ - کلبی نسل کا بھونکنے والا، گوشت خور چوپایہ جس کی بہت سی قسمیں ہیں مثلاً جنگلی، پالتو، شکاری وغیرہ، یہ چوکیداری اور سراغ رسانی کا کام بھی دیتا ہے۔ "کتا مار عملہ سال پیچھے کبھی نظر آجاتا۔" ( ١٩٨٧ء، اردو ڈائجسٹ، لاہور، اپریل، ٣١٢ ) ٢ - کُتے کی طرح پاجی، ذلیل (ایک طرح کی گالی)۔ "آج یہ خدا کو بھولی ہے، اتنا بھی نہیں جانتی کہ خاقان کون کُتا اور کس کھیت کی مولی ہے۔" ( ١٩٠٧ء، سفید خون، ٤٨ ) ٤ - [ کنایۃ ] پیٹ، غلام اور امراء کے دروازے کا دربان، رشوت خور وغیرہ جیسے یہ کتا (پیٹ) ہر وقت کھانے کی فکر میں لگا رہتا ہے، آدمی پیٹ کا کتا (غلام) ہے وغیرہ۔ "فرمایا کہ اے کتے پہلے تو نے دادا کو قتل کیا اس کی سزا میں تو مقتول کا غلام بنایا گیا۔" ( ١٩٣٩ء، حکایات رومی، ١٢٦:١ ) ٦ - [ مجازا ] وہ پرزہ جو کسی مشین وغیرہ کے دوسرے پرزوں کو حسب ضرورت روکتا ہے، گھوڑا، گیرہ۔ "اس کے اندر بھی دو دانت ہوتے ہیں جن میں کتے آکر پھنستے ہیں۔" ( ١٩٧٠ء، دھات کاری، ٧٨ )
اشتقاق
پراکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کلبی نسل کا بھونکنے والا، گوشت خور چوپایہ جس کی بہت سی قسمیں ہیں مثلاً جنگلی، پالتو، شکاری وغیرہ، یہ چوکیداری اور سراغ رسانی کا کام بھی دیتا ہے۔ "کتا مار عملہ سال پیچھے کبھی نظر آجاتا۔" ( ١٩٨٧ء، اردو ڈائجسٹ، لاہور، اپریل، ٣١٢ ) ٢ - کُتے کی طرح پاجی، ذلیل (ایک طرح کی گالی)۔ "آج یہ خدا کو بھولی ہے، اتنا بھی نہیں جانتی کہ خاقان کون کُتا اور کس کھیت کی مولی ہے۔" ( ١٩٠٧ء، سفید خون، ٤٨ ) ٤ - [ کنایۃ ] پیٹ، غلام اور امراء کے دروازے کا دربان، رشوت خور وغیرہ جیسے یہ کتا (پیٹ) ہر وقت کھانے کی فکر میں لگا رہتا ہے، آدمی پیٹ کا کتا (غلام) ہے وغیرہ۔ "فرمایا کہ اے کتے پہلے تو نے دادا کو قتل کیا اس کی سزا میں تو مقتول کا غلام بنایا گیا۔" ( ١٩٣٩ء، حکایات رومی، ١٢٦:١ ) ٦ - [ مجازا ] وہ پرزہ جو کسی مشین وغیرہ کے دوسرے پرزوں کو حسب ضرورت روکتا ہے، گھوڑا، گیرہ۔ "اس کے اندر بھی دو دانت ہوتے ہیں جن میں کتے آکر پھنستے ہیں۔" ( ١٩٧٠ء، دھات کاری، ٧٨ )