کتاب
معنی
١ - لکھے یا چھپے ہوئے اوراق کا مجموعہ، پستک، پوتھی۔ "اس کتاب میں جتنے مضامین ہیں وہ محتلف اخبارات و رسائل میں بکھرے ہوئے تھے۔" ( ١٩٨٤ء، کیا قافلہ جاتا ہے، ٣ ) ٢ - کتابت شدہ، نوشتہ، ضبطِ تحریر میں لایا ہوا، لکھا ہوا، لکھت تحریر شدہ۔ "سبقت لے جاتی ہے اس پر کتاب یعنی اس کی سر نوشت۔" ( ١٨٣٠ء، تنبیہ الغافلین، ٥٠ ) ٣ - قرآن پاک نیز توریت، انجیل یا زبور وغیرہ۔ "یہاں کتاب سے مراد قرآن کریم ہے۔" ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ٥٤:١ ) ٧ - بہی کھاتہ، رجسٹر۔ "کمپنیوں کے فائدے میں تھا کہ وہ کتابوں میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری دکھائیں۔" ( ١٩٧٥ء، شاہراہ انقلاب، ١٣٢ ) ٨ - نامۂ اعمال، وہ کاغذ جس پر کراماً کاتبین ہر ایک کے اعمال لکھتے ہیں۔ "اکثر مفسروں نے یہاں کتاب سے لوحِ محفوظ یا نامۂ اعمال مراد لیا جاتا ہے۔" ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ٥:١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب مشتق اسم ہے۔ عربی زبان سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - لکھے یا چھپے ہوئے اوراق کا مجموعہ، پستک، پوتھی۔ "اس کتاب میں جتنے مضامین ہیں وہ محتلف اخبارات و رسائل میں بکھرے ہوئے تھے۔" ( ١٩٨٤ء، کیا قافلہ جاتا ہے، ٣ ) ٢ - کتابت شدہ، نوشتہ، ضبطِ تحریر میں لایا ہوا، لکھا ہوا، لکھت تحریر شدہ۔ "سبقت لے جاتی ہے اس پر کتاب یعنی اس کی سر نوشت۔" ( ١٨٣٠ء، تنبیہ الغافلین، ٥٠ ) ٣ - قرآن پاک نیز توریت، انجیل یا زبور وغیرہ۔ "یہاں کتاب سے مراد قرآن کریم ہے۔" ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ٥٤:١ ) ٧ - بہی کھاتہ، رجسٹر۔ "کمپنیوں کے فائدے میں تھا کہ وہ کتابوں میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری دکھائیں۔" ( ١٩٧٥ء، شاہراہ انقلاب، ١٣٢ ) ٨ - نامۂ اعمال، وہ کاغذ جس پر کراماً کاتبین ہر ایک کے اعمال لکھتے ہیں۔ "اکثر مفسروں نے یہاں کتاب سے لوحِ محفوظ یا نامۂ اعمال مراد لیا جاتا ہے۔" ( ١٩٠٤ء، مقالات شبلی، ٥:١ )