کتابی
معنی
١ - کتاب سے منسوب، مکتوبی، لکھا ہوا، (مجازاً) قابل و ثوق۔ "علمِ کتابی کی ایک معتمد یہ مقدار ضروری ہوتی ہے۔" ( ١٩٦٦ء، شاعری اور تخیل، ٩١ ) ٢ - تحریری لکھی جانے والی (زبان) قواعدی (بول چال کے مقابل)۔ "کرم خان محمد کو بجبر آگرہ لے گیا، یہ عبارت بھی کتابی ہے۔" ( ١٨٦٧ء، مقالات محمد حسین آزاد، ٤٥٢ ) ٣ - قرآن پاک کے علاوہ کسی اور آسمانی کتاب پر عمل کرنے والا یا واجب التعمیل ماننے والا، اہل کتاب۔ "اس کے قریب ایک درویش کتابی رہتا تھا۔" ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیا، ٣٧:٢ ) ٤ - کتاب الٰہی یا وحی سے منسوب۔ دِل کہ عرش خدا ہے اس کوں نہ توڑ عاشقوں کا سخن کتابی ہے ( ١٧٣٩ء، کلیات سراج، ٤٨٧ ) ٥ - لمبا (چہرہ) "گندمی رنگ، کتابی نقشہ، چہرے پر جھریاں۔" ( ١٩٢٤ء، خلیل خاں فاختہ، ١:١ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'کتاب' کے ساتھ 'یائے' بطور لاحقہ نسبت و صفت لگانے سے 'کتابی' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کتاب سے منسوب، مکتوبی، لکھا ہوا، (مجازاً) قابل و ثوق۔ "علمِ کتابی کی ایک معتمد یہ مقدار ضروری ہوتی ہے۔" ( ١٩٦٦ء، شاعری اور تخیل، ٩١ ) ٢ - تحریری لکھی جانے والی (زبان) قواعدی (بول چال کے مقابل)۔ "کرم خان محمد کو بجبر آگرہ لے گیا، یہ عبارت بھی کتابی ہے۔" ( ١٨٦٧ء، مقالات محمد حسین آزاد، ٤٥٢ ) ٣ - قرآن پاک کے علاوہ کسی اور آسمانی کتاب پر عمل کرنے والا یا واجب التعمیل ماننے والا، اہل کتاب۔ "اس کے قریب ایک درویش کتابی رہتا تھا۔" ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیا، ٣٧:٢ ) ٥ - لمبا (چہرہ) "گندمی رنگ، کتابی نقشہ، چہرے پر جھریاں۔" ( ١٩٢٤ء، خلیل خاں فاختہ، ١:١ )