کثرت
معنی
١ - ذیادتی، بہتات، کثیر ہونا۔ "کسی خطے میں بارش کی کثرت یا قِلت کی وجہ سے کیا ہے۔" ( ١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ١٤ ) ٢ - بھیڑ، ہجوم، ریل پیل، ازد حام۔ "نماز جمہ کے بعد محل ہرات کے سامنے ازد حام عوام کے اندر میں سیر کرتا تھا، آپ کو میں نے اس کثرت میں دیکھا۔" ( ١٨٩٣ء، ترجمہ رشحات، ١٣٩ ) ٣ - [ تصوف ] مخلوقات اور ظہور اسماء (وحدت کی ضد)؛ (مجازاً) علائقِ دُنیاوی، کل مخلوقات عالم۔ "کس حد تک کائنات ایک وحدت ہے اور کس حد تک کثرت ہے۔" ( ١٩٨٧ء، فلسفہ کیا ہے، ٧٧ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٨٢ء کو "کلمۃ الحق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ذیادتی، بہتات، کثیر ہونا۔ "کسی خطے میں بارش کی کثرت یا قِلت کی وجہ سے کیا ہے۔" ( ١٩٨٤ء، جدید عالمی معاشی جغرافیہ، ١٤ ) ٢ - بھیڑ، ہجوم، ریل پیل، ازد حام۔ "نماز جمہ کے بعد محل ہرات کے سامنے ازد حام عوام کے اندر میں سیر کرتا تھا، آپ کو میں نے اس کثرت میں دیکھا۔" ( ١٨٩٣ء، ترجمہ رشحات، ١٣٩ ) ٣ - [ تصوف ] مخلوقات اور ظہور اسماء (وحدت کی ضد)؛ (مجازاً) علائقِ دُنیاوی، کل مخلوقات عالم۔ "کس حد تک کائنات ایک وحدت ہے اور کس حد تک کثرت ہے۔" ( ١٩٨٧ء، فلسفہ کیا ہے، ٧٧ )