کثیر

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - بکثرت، کثرت سے، بہ افراط، بے شمار، بہت زیادہ، بسیار (قلیل کی ضد)۔ "ہندو دیو مالا . اور اس کے ماننے والے کثیر تعداد میں موجود ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ٣٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بکثرت، کثرت سے، بہ افراط، بے شمار، بہت زیادہ، بسیار (قلیل کی ضد)۔ "ہندو دیو مالا . اور اس کے ماننے والے کثیر تعداد میں موجود ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ٣٠ )

اصل لفظ: کثر
جنس: مذکر