کثیرالاجزاء

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بہت سے حصے رکھنے والا، وہ جس کے بہت سے حصے اور ٹکڑے ہوں۔ "ان جزیروں کا ایک باشندہ "سور" اور "مرنا" کے لفظ بولنے سے معذور تھا کیونکہ یہ اسکے داماد کے کثیرالاجزا نام میں شامل تھے۔"      ( ١٩٦٥ء، شاخ زرّیں، ٤٩٩:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق صفت 'کثیر' کے بعد حرفِ تخصیص 'ال' اور اسکے بعد اسم جمع 'اَجزا' لانے سے مرکب توصیفی بنا جو اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٨٣٧ء کو "سِتّہ شمسیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بہت سے حصے رکھنے والا، وہ جس کے بہت سے حصے اور ٹکڑے ہوں۔ "ان جزیروں کا ایک باشندہ "سور" اور "مرنا" کے لفظ بولنے سے معذور تھا کیونکہ یہ اسکے داماد کے کثیرالاجزا نام میں شامل تھے۔"      ( ١٩٦٥ء، شاخ زرّیں، ٤٩٩:١ )