کجا

قسم کلام: متعلق فعل

معنی

١ - کہاں، کس جگہ (اردو میں عموماً دو برابر چیزوں کے مقابلے کے موقع پر بولتے ہیں)۔ "کجا مسدس حالی کی درد مندی اور کجا غزل حالی کی رعنائی۔"      ( ١٩٨٤ء، ذکر خیرالانامۖ، ١١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور 'متعلق فعل' مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٧٦ء کو "مثنویات میر حسن" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کہاں، کس جگہ (اردو میں عموماً دو برابر چیزوں کے مقابلے کے موقع پر بولتے ہیں)۔ "کجا مسدس حالی کی درد مندی اور کجا غزل حالی کی رعنائی۔"      ( ١٩٨٤ء، ذکر خیرالانامۖ، ١١ )