کدورت

قسم کلام: اسم کیفیت ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - گدلاپن، میل، گندگی۔  نشکام سے لیکن رہے یہ کام کی صورت آئینۂ دل کو نہ لگے زنگِ کدورت      ( ١٩٢٩ء، مطلع انوار، ١٦٠ ) ٢ - [ مجازا ]  کینہ، دشمنی۔ "کچھ مدت بعد انوری نے یہ کدورت دل سے نکال دی اور قاضی نے بھی صلح کر لی۔"      ( ١٩٨٥ء، فنون، لاہور، مئی، جون، ٢٣٧ ) ٣ - رنجش، ملال۔ "وہ ان کا قلم تھا جس میں طنز، شوخی، سفاکی، کدورت . علم سب کچھ تھا۔"      ( ١٩٦٨ء، نیم رخ، ٥٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ مجازا ]  کینہ، دشمنی۔ "کچھ مدت بعد انوری نے یہ کدورت دل سے نکال دی اور قاضی نے بھی صلح کر لی۔"      ( ١٩٨٥ء، فنون، لاہور، مئی، جون، ٢٣٧ ) ٣ - رنجش، ملال۔ "وہ ان کا قلم تھا جس میں طنز، شوخی، سفاکی، کدورت . علم سب کچھ تھا۔"      ( ١٩٦٨ء، نیم رخ، ٥٥ )

اصل لفظ: کدر