کربلا

قسم کلام: اسم جامد

معنی

١ - عراق میں ایک مقام جہاں حضرت امام حسینؓ اور ان کے رفقاء نے شہادت پائی تھی۔  آئی جب اپنے شہر کی تصویر سامنے آنکھوں کے آگے پھیل گیا کربلا کا رنگ      ( ١٩٨٨ء، آنگن میں سمندر، ١٢١ ) ٢ - تعزیے ٹھنڈے کرنے کی جگہ، امام بارگاہ۔ "قدسیہ بیگم . نصیر الدین حیدر کی کربلا میں دفن ہوئیں۔"      ( ١٩٣٥ء، بیگمات شاہان اودھ، ٣٥ ) ٣ - [ کنایۃ ] وہ جگہ جہاں لاشیں بکھری پڑی ہوں، مقتل۔  غمزے سے اپنے بولے وہ کشتوں کو دیکھ کر لوجی میری گلی نہ ہوئی کربلا ہوئی    ( ١٨٨٨ء، صنم خانۂ عشق، ٢٧٥ ) ٤ - وہ مقام جہاں پانی میّسر نہ ہو۔  ابرو کی دھن میں چاہِ ذقن کا رہا نہ دھیان پانی کی کربلا ہوئی کعبہ کی راہ میں    ( ١٨٥٨ء، امانت (نوراللغات) ) ٥ - [ کنایۃ ]  مصیبت، بلا۔  بلاؤں کو دعوت گھٹاؤں نے دی ہے گھٹاؤں میں ہیں منتظر کربلائیں      ( ١٩٦٠ء، آتشِ خنداں، ١٠٣ ) ٦ - [ کنایۃ ]  عظیم الشان، قربانی۔  قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد      ( ١٩٢٣ء، کلام جوہر، ٣٩ ) ٧ - [ کنایۃ ]  معرکہ، جنگ، مقابلہ۔  مسلسل کربلائے خیر و شر میں حُسینی عظمتوں کا وار تُو ہے      ( ١٩٨٤ء، سمندر، ٣٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم جامد ہے۔ عربی سے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٠٣ء کو "نوسرہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - تعزیے ٹھنڈے کرنے کی جگہ، امام بارگاہ۔ "قدسیہ بیگم . نصیر الدین حیدر کی کربلا میں دفن ہوئیں۔"      ( ١٩٣٥ء، بیگمات شاہان اودھ، ٣٥ )

جنس: مؤنث