کرجگ

قسم کلام: اسم ظرف مکان

معنی

١ - زمانۂ حال، کام کرنے کا زمانہ۔ "دنیا کلجگ نہیں کرجگ ہے جو کچھ بہو بن کر بوؤ گی ساس بن کر کاٹ لینا۔"      نگری نگری جگمگ جگمگ رنگ رلیاں، پایل کی جھنکار کلجگ کیسا کرجگ آیا اب شوقِ شہانہ چھوڑو بھی      ( ١٩١٦ء، مسلی ہوئی پتیاں، ١٣ )( ١٩٧٨ء، دامنِ یوسف، ٩٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ فعل لازم 'کرتا' سے مشتق صیغۂ امر 'کر' کے ساتھ اسی زبان سے ماخوذ اسم ظرف زماں 'جُگ' ملانے سے مشکل ہونے والا اسم ہے جو اردو میں اپنے ماخذ معانی کے ساتھ عربی رسم الخط میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٣٠ء کو "کلیاتِ نظیر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - زمانۂ حال، کام کرنے کا زمانہ۔ "دنیا کلجگ نہیں کرجگ ہے جو کچھ بہو بن کر بوؤ گی ساس بن کر کاٹ لینا۔"      نگری نگری جگمگ جگمگ رنگ رلیاں، پایل کی جھنکار کلجگ کیسا کرجگ آیا اب شوقِ شہانہ چھوڑو بھی      ( ١٩١٦ء، مسلی ہوئی پتیاں، ١٣ )( ١٩٧٨ء، دامنِ یوسف، ٩٠ )

جنس: مذکر