کردہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - مرکبات میں بطور لاحقہ جیسے سرکرہ، کار کردہ۔  تصویر حُرپہ چشم ادب سے کرو نظر آزاد کردۂ شہہ دیں ہے یہ نامور      ( ١٨٧٥ء، دبیر، دفتر ماتم، ١٣٢:٣ ) ٢ - کیا ہوا۔ "کنگ ایڈیسین کردہ، ناکردہ گناہ کی تعزیر میں انسانی بے بسی اور صبر کا استعارہ ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، شعری لسانیات، ٨٢ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'کردن' سے صیغہ حالیہ تمام ہے۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٦٩ء کو "دیوانِ غالب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - کیا ہوا۔ "کنگ ایڈیسین کردہ، ناکردہ گناہ کی تعزیر میں انسانی بے بسی اور صبر کا استعارہ ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، شعری لسانیات، ٨٢ )