کرن

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - شعاع، روشنی کے خطوط جو کسی تابناک سے نکلتے ہیں۔ "صبح کی پہلی کرن کو پکڑتے۔"      ( ١٩٨٧ء، آجاؤ افریقہ، ١٠٨ ) ٢ - سنہری یا روپہلی تاروں کی بنی ہوئی لیس جو بھاری دوپٹوں کے آنچلوں یا کامدار ٹوپی پر لگاتے ہیں، قبضۂ شمشیر کے کنارے اور جوتی کے حاشیے پر بھی لگائی جاتی ہیں۔ "سرخ رنگ کی تلک (پشواز) بھی اس پر بھی لچکے بنت اور کرن ٹکی تھی۔"      ( ١٩٦٤ء، نور مشرق، ٥٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥١٨ء کو "دکنی ادب کی تاریخ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شعاع، روشنی کے خطوط جو کسی تابناک سے نکلتے ہیں۔ "صبح کی پہلی کرن کو پکڑتے۔"      ( ١٩٨٧ء، آجاؤ افریقہ، ١٠٨ ) ٢ - سنہری یا روپہلی تاروں کی بنی ہوئی لیس جو بھاری دوپٹوں کے آنچلوں یا کامدار ٹوپی پر لگاتے ہیں، قبضۂ شمشیر کے کنارے اور جوتی کے حاشیے پر بھی لگائی جاتی ہیں۔ "سرخ رنگ کی تلک (پشواز) بھی اس پر بھی لچکے بنت اور کرن ٹکی تھی۔"      ( ١٩٦٤ء، نور مشرق، ٥٣ )

جنس: مؤنث