کرپان

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - وہ چھوٹی تلوار جس سے قربانی کی جائے بھینٹ چڑھائی جائے یہ عموماً سکھوں کے پاس ہوتی ہے نیز تلوار، شمشیر۔ "کرپان کو تم نے میان سے کھینچ لیا اور . لاری میں سے چھلانگ لگا دی۔"      ( ١٩٨٩ء، قومی زبان، کراچی، مارچ، ٦٧ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوانِ حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ چھوٹی تلوار جس سے قربانی کی جائے بھینٹ چڑھائی جائے یہ عموماً سکھوں کے پاس ہوتی ہے نیز تلوار، شمشیر۔ "کرپان کو تم نے میان سے کھینچ لیا اور . لاری میں سے چھلانگ لگا دی۔"      ( ١٩٨٩ء، قومی زبان، کراچی، مارچ، ٦٧ )

جنس: مؤنث