کرہاً

قسم کلام: متعلق فعل

معنی

١ - کراہت سے، ناگواری سے، بادِلِ ناخواستہ (بالعموم طوعاً و کرہاً کی ترکیب میں مستعمل)۔ "اس نے آسمان اور زمین سے کہا آؤ، خواہ طوعاً خواہ کرہاً۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ١٧٠:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'کرہ' کے ساتھ 'اً' بطور لاحقۂ تمیز لگانے سے 'کرہاً' بنا۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور 'متعلق فعل' استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٧٧ء کو "طلسم گوہر بار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کراہت سے، ناگواری سے، بادِلِ ناخواستہ (بالعموم طوعاً و کرہاً کی ترکیب میں مستعمل)۔ "اس نے آسمان اور زمین سے کہا آؤ، خواہ طوعاً خواہ کرہاً۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ١٧٠:٣ )

اصل لفظ: کرہ