کریدنی

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - کھرچنے کا آہنی آلہ جس سے تنور یا چولہے کی آگ الٹ پلٹ کرتے ہیں۔ "بندروں پر بعض مخصوص معیاری آزمائشیں کی جاتی ہیں مثلاً وہ آزمائشیں جن میں اوزار یا کریدنیاں ایک خاص ترتیب کے ساتھ استعمال کی جاتی ہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ٤٢ ) ٢ - [ مجازا ]  خلش، کھٹکا۔ "اس کے دل میں یہ کریدنی رہنے لگی کہ جب تک زیبو کو بدکاری کی زندگی سے نجات نہ دلائی جائے باپ کی روح پر عذاب ہوتا رہے گا۔"      ( ١٩٢٤ء، سراب عیش، ٥٦ ) ٣ - [ مجازا ]  کھوج، تجسس، جستجو۔ "اسے یہ کریدنی لگی تھی کہ میں اب تک براٹ سے کیوں محفوظ ہوں۔"      ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٤٦٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ فعل 'کریدنا' سے حاصل مصدر 'کرید' کے آخر پر 'نی' بطور لاحقہ آلہ لگانے سے بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٩٤٨ء کو "اشیائے تعمیر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کھرچنے کا آہنی آلہ جس سے تنور یا چولہے کی آگ الٹ پلٹ کرتے ہیں۔ "بندروں پر بعض مخصوص معیاری آزمائشیں کی جاتی ہیں مثلاً وہ آزمائشیں جن میں اوزار یا کریدنیاں ایک خاص ترتیب کے ساتھ استعمال کی جاتی ہیں۔"      ( ١٩٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ٤٢ ) ٢ - [ مجازا ]  خلش، کھٹکا۔ "اس کے دل میں یہ کریدنی رہنے لگی کہ جب تک زیبو کو بدکاری کی زندگی سے نجات نہ دلائی جائے باپ کی روح پر عذاب ہوتا رہے گا۔"      ( ١٩٢٤ء، سراب عیش، ٥٦ ) ٣ - [ مجازا ]  کھوج، تجسس، جستجو۔ "اسے یہ کریدنی لگی تھی کہ میں اب تک براٹ سے کیوں محفوظ ہوں۔"      ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٤٦٠ )

اصل لفظ: کُرْتَن
جنس: مؤنث