کریمی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بزرگی، سخاوت، فیاضی، مہربانی۔ "اسے اللہ کی کریمی اور رحیمی پر یقین کامل ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، دست زرفشاں، ٢٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'کریم' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت ملنے سے اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٥٤ء کو "گنج شریف" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بزرگی، سخاوت، فیاضی، مہربانی۔ "اسے اللہ کی کریمی اور رحیمی پر یقین کامل ہے۔"      ( ١٩٨٢ء، دست زرفشاں، ٢٤ )

اصل لفظ: کَرِیم
جنس: مؤنث