کسبی
معنی
١ - کسب سے منسوب یا متعلق، حاصل کی ہوئی، کمائی ہوئی (وہبی کی ضد)۔ "حماقت نہ کسبی ہے اور نہ وہی بلکہ یہ صرف متعدی ہے۔" ( ١٩٤٠ء، مضامین رشید، ٣٠٠ ) ٢ - محنت و مشقت جھیل کر عبادت کرنے والا، مرتاض۔ کسبی ہے کتیک جگت میں تن کوں ہے کام یہی جونس کوں دن کوں ( ١٧٠٠ء، من لگن، ٦٩ ) ١ - پیشہ کمانے والی، کوٹھے پر بیٹھنے والی، کسبن، زن بازاری، رنڈی، طوائف۔ "جب شام ہوئی مولانا صاحب . کسبی کے مکان پر پہنچے جہاں سب کسبیاں جمع ہو کر کچھ گا بجا رہی تھیں۔" ( ١٩٢٨ء، حیرت، حیات طیبہ، ٨١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'کسب' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبت و کیفیت ملنے سے 'کسبی' بنا۔ اردو میں بطور صفت اور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٠٠ء کو "من لگن" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کسب سے منسوب یا متعلق، حاصل کی ہوئی، کمائی ہوئی (وہبی کی ضد)۔ "حماقت نہ کسبی ہے اور نہ وہی بلکہ یہ صرف متعدی ہے۔" ( ١٩٤٠ء، مضامین رشید، ٣٠٠ ) ١ - پیشہ کمانے والی، کوٹھے پر بیٹھنے والی، کسبن، زن بازاری، رنڈی، طوائف۔ "جب شام ہوئی مولانا صاحب . کسبی کے مکان پر پہنچے جہاں سب کسبیاں جمع ہو کر کچھ گا بجا رہی تھیں۔" ( ١٩٢٨ء، حیرت، حیات طیبہ، ٨١ )