کسر

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - نقص، خرابی۔ "میں خدا کے فضل و کرم سے اچھا ہوں، صحت عامہ تو قریباً بحال ہوگئی ہے البتہ آواز میں ابھی کسر باقی ہے۔"      ( ١٩٣٦ء، اقبال نامہ، ٢٤٥:١ ) ٢ - کمی، کوتاہی۔  حد تکمیل کو پہونچی تری رعنائی، حُسن جو کسر تھی وہ مٹادی تری انگڑائی نے      ( ١٩٤٩ء، جوئے شیر، ٢٤ ) ٣ - نقصان، گھاٹا، خسارہ۔ "ریل میں جو کرایہ صرف ہو اس کی کسر قیمت سے پوری ہو جائے گی۔"      ( ١٩٢٤ء، جغرافیۂ عالم، ١١٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'کَسْر' کی تارید ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیاتِ میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نقص، خرابی۔ "میں خدا کے فضل و کرم سے اچھا ہوں، صحت عامہ تو قریباً بحال ہوگئی ہے البتہ آواز میں ابھی کسر باقی ہے۔"      ( ١٩٣٦ء، اقبال نامہ، ٢٤٥:١ ) ٣ - نقصان، گھاٹا، خسارہ۔ "ریل میں جو کرایہ صرف ہو اس کی کسر قیمت سے پوری ہو جائے گی۔"      ( ١٩٢٤ء، جغرافیۂ عالم، ١١٠ )

جنس: مؤنث