کسرپیما

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - [ طبعیات ]  ایک آلہ جس سے انچ کی کسروں کی پیمائش کی جاتی ہے۔ "پیتل کی چھوٹی نلی جس میں ایک کسر پیما لگا ہوا ہوتا ہے۔"      ( ١٩٣١ء، طبعیات عملی، ٢٧٤:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'کسر' کے ساتھ فارسی مصدر 'پیمودن' کا حاصل مصدر 'پیما' ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٩٣١ء کو "طبیعیات عملی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ طبعیات ]  ایک آلہ جس سے انچ کی کسروں کی پیمائش کی جاتی ہے۔ "پیتل کی چھوٹی نلی جس میں ایک کسر پیما لگا ہوا ہوتا ہے۔"      ( ١٩٣١ء، طبعیات عملی، ٢٧٤:١ )

جنس: مذکر