کسک
معنی
١ - ہلکا ہلکا درد، ٹیس، ہلکی تکلیف، چبھن، خلش۔ "اُمید اور نا امیدی کا تصادم جمالیاتی لہروں کو اس طرح خلق کر دیتا ہے کہ باطن کی کسک سے ایک پراسرار رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔" ( ١٩٨٨ء، فیض احمد فیض عسک اور جہتیں، ٢٢١ )
اشتقاق
پراکرت زبان سے ماخوذ مصدر 'کسکنا' کا حاصل مصدر ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیاتِ میر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ہلکا ہلکا درد، ٹیس، ہلکی تکلیف، چبھن، خلش۔ "اُمید اور نا امیدی کا تصادم جمالیاتی لہروں کو اس طرح خلق کر دیتا ہے کہ باطن کی کسک سے ایک پراسرار رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔" ( ١٩٨٨ء، فیض احمد فیض عسک اور جہتیں، ٢٢١ )