کشائش

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کھولنا، کشادگی، وسعت، فراخی۔ "جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں کشائش کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔"      ( ١٩٥٣ء، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر، ١٢١ ) ٢ - [ کنایۃ ]  مہم سر کرنا، فتح، جیت۔ "وہ پہلوان دیو پیکر . سپر فولادی چہرے کی پناہ کیے ہم تن قلعہ کی کشایش میں مصروف ہے۔"      ( ١٨٩٠ء، بوستان خیال، ٨٥٨:٦ ) ٣ - خوشحالی، آسودگی، فارغ البانی۔ "پھر دوگنا کردے اللہ اس کو کئی گنا اور اللہ ہی تنگی کر دیتا ہے وہی کشائش کرتا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔"      ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ٥٤٥:١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ مصدر 'کشودن' کا حاصل مصدر ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کھولنا، کشادگی، وسعت، فراخی۔ "جس کے لیے چاہتا ہے رزق میں کشائش کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔"      ( ١٩٥٣ء، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر، ١٢١ ) ٢ - [ کنایۃ ]  مہم سر کرنا، فتح، جیت۔ "وہ پہلوان دیو پیکر . سپر فولادی چہرے کی پناہ کیے ہم تن قلعہ کی کشایش میں مصروف ہے۔"      ( ١٨٩٠ء، بوستان خیال، ٨٥٨:٦ ) ٣ - خوشحالی، آسودگی، فارغ البانی۔ "پھر دوگنا کردے اللہ اس کو کئی گنا اور اللہ ہی تنگی کر دیتا ہے وہی کشائش کرتا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔"      ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ٥٤٥:١ )

جنس: مؤنث