کشاد
معنی
١ - کشادہ، وسیع، فراخ، کھلا ہوا۔ خوانِ نعمات ہے کشاد اس کا نام ہے رازق العباد اس کا ( ١٨٥٧ء، بحرالفت، ١ ) ١ - کھلنا، کھولنا، بطور سابقہ مرکبات میں بھی مستعمل۔ "درمیانی دعووں و تنازعوں کا میلان جو ان آبناؤں کی بند یا کشاد کی طرف تھا کل یورپ کے لیے . ایک مہتم بالشان امر تھا۔" ( ١٩٠٤ء، محاربات عظیم، ١٤ ) ٢ - مطلب کا حاصل ہونا، کامیابی، حصولِ مقصد۔ فقیہہ شہر کی تحقیر! کیا مجال مری مگر یہ بات کہ میں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد ( ١٩٣٥ء، بالِ جبریل، ١٠٢ )
اشتقاق
فارسی مصدر 'کشادن' سے حاصل مصدر ہے۔ اردو میں بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٨ء کو "چندر بدن و مہیار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کھلنا، کھولنا، بطور سابقہ مرکبات میں بھی مستعمل۔ "درمیانی دعووں و تنازعوں کا میلان جو ان آبناؤں کی بند یا کشاد کی طرف تھا کل یورپ کے لیے . ایک مہتم بالشان امر تھا۔" ( ١٩٠٤ء، محاربات عظیم، ١٤ )