کشادہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - کُھلا ہوا۔ "وہ زبان جو ہزاروں برس کے کٹاؤ کے عمل سے گہری اور کشادہ ہو کر ایک بڑی زبان کے درجے پر جا پہنچی ہے۔"      ( ١٩٩١ء، اردو نامہ، لاہور، جولائی، ١٣ ) ٢ - پھیلا ہوا، چوڑا۔ "اذیتوں کے ہزاروں رنگ تھے اور ہزاروں شکنیں تمہارے کشادہ چہرے پر ابھر آئی تھیں۔"      ( ١٩٨٧ء، پلک پلک سمٹی رات، ٢٠٣ ) ٣ - واضح، تفصیلی۔ "انگریزی ترجمہ ان ہندی تراجم سے کہیں زیادہ بہتر ہے مگر اس کی عبارت بھی زیادہ کشادہ نہیں۔"      ( ١٩٥٥ء، مدرا راکھش، ٧ ) ٤ - کھولنا (کرناکے ساتھ)۔  گیا تو یہودیاں کے سر تھیں گماں زباں کر کشادہ کہے الاماں      ( ١٦٧٢ء، کلیاتِ شاہی، ١٣٦ )

اشتقاق

فارسی مصدر 'کشادن' سے صیغہ حالیہ تمام 'کشادہ' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کُھلا ہوا۔ "وہ زبان جو ہزاروں برس کے کٹاؤ کے عمل سے گہری اور کشادہ ہو کر ایک بڑی زبان کے درجے پر جا پہنچی ہے۔"      ( ١٩٩١ء، اردو نامہ، لاہور، جولائی، ١٣ ) ٢ - پھیلا ہوا، چوڑا۔ "اذیتوں کے ہزاروں رنگ تھے اور ہزاروں شکنیں تمہارے کشادہ چہرے پر ابھر آئی تھیں۔"      ( ١٩٨٧ء، پلک پلک سمٹی رات، ٢٠٣ ) ٣ - واضح، تفصیلی۔ "انگریزی ترجمہ ان ہندی تراجم سے کہیں زیادہ بہتر ہے مگر اس کی عبارت بھی زیادہ کشادہ نہیں۔"      ( ١٩٥٥ء، مدرا راکھش، ٧ )