کفران

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کُفر، انکار (ایمان کے مقابل)۔ "ایمان اور کفران دو میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے پر کوئی زبردستی نہیں ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٦٠:٤ ) ٢ - کسی نعمتِ خداوندی کا انکار، ناشکری، احسان فراموشی، ناسپاسی۔ "اسی حرکت کو اللہ تعالٰی انکار نعمت اور احسان فراموشی اور کفران سے تعبیر کرتا ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، سیرت سرور عالمۖ، ٤٢:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٩١ء کو "ہشت بہشت، باقر آگاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کُفر، انکار (ایمان کے مقابل)۔ "ایمان اور کفران دو میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے پر کوئی زبردستی نہیں ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٣٦٠:٤ ) ٢ - کسی نعمتِ خداوندی کا انکار، ناشکری، احسان فراموشی، ناسپاسی۔ "اسی حرکت کو اللہ تعالٰی انکار نعمت اور احسان فراموشی اور کفران سے تعبیر کرتا ہے۔"      ( ١٩٧٢ء، سیرت سرور عالمۖ، ٤٢:١ )

اصل لفظ: کفر
جنس: مذکر