کلاں

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جسامت میں بڑا، بھاری، وزنی۔ "کنارہ دریا پر ایک جہاز کلاں کھڑا ہوا تھا۔"      ( ١٨٨٠ء، ماسڑ رام چندر، ١٤٧ ) ٢ - رتبے یا عُمر میں بڑا، بزرگ۔ "امور ملک میں بادشاہ کے لیے لازم ہے کہ وہ گدا نوازی اور درویش پروری کرے، انصاف کرتے وقت خوردو کلاں کو برابر جانے۔"      ( ١٩٨٩ء، صحیفہ، آزادی نمبر، جولائی، دسمبر، ٥٨ ) ٣ - دراز، لمبا۔ "اگر طیار ہوگئے ہوں ان کو تراش کر پیوند کلاں پودے کی شاخ کو جدا کر دینی چاہیے۔"      ( ١٩٠٣ء، باغبان، ٩ ) ٤ - وسیع، بسیط۔  ظاہر ہو اگر دیکھے تو امکان کا صحیفہ سینہ میں ہر اک نقطہ کے ہیں چند کلاں شرح      ( ١٨٦٤ء، دیوان حافظ، ہندی، ٢٥ ) ٥ - عظیم "عشق نے اس کلاں صنعت گر کو کہ جس نے ظرف خلقت آدم کے تیئں اربعہ عناصر سے بنایا۔"      ( ١٨٠٤ء، گلزار چین۔ ٢٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٣٢ء کو "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جسامت میں بڑا، بھاری، وزنی۔ "کنارہ دریا پر ایک جہاز کلاں کھڑا ہوا تھا۔"      ( ١٨٨٠ء، ماسڑ رام چندر، ١٤٧ ) ٢ - رتبے یا عُمر میں بڑا، بزرگ۔ "امور ملک میں بادشاہ کے لیے لازم ہے کہ وہ گدا نوازی اور درویش پروری کرے، انصاف کرتے وقت خوردو کلاں کو برابر جانے۔"      ( ١٩٨٩ء، صحیفہ، آزادی نمبر، جولائی، دسمبر، ٥٨ ) ٣ - دراز، لمبا۔ "اگر طیار ہوگئے ہوں ان کو تراش کر پیوند کلاں پودے کی شاخ کو جدا کر دینی چاہیے۔"      ( ١٩٠٣ء، باغبان، ٩ ) ٥ - عظیم "عشق نے اس کلاں صنعت گر کو کہ جس نے ظرف خلقت آدم کے تیئں اربعہ عناصر سے بنایا۔"      ( ١٨٠٤ء، گلزار چین۔ ٢٦ )