کلاہ
معنی
١ - ٹوپی، پگڑی۔ مجھے خوشبوؤں سی کلاہ دے مجھے روشنی سی نگاہ دے کبھی پھول بن کے مہک اٹھوں کبھی شمع بن کے جلا کروں ( ١٩٧٤ء، الحمد، ٦٢ ) ٢ - مخروطی شکل کی ٹوپی جسے پہن کر اوپر سے پگڑی باندھتے ہیں۔ "چار ٹوپیاں اور کلاہیں اور چھ ہاتھ کی لکڑیاں جو مولوی محمد اشرف نے کرنال سے بھیجی تھیں، وہ بھی پہنچیں۔" ( ١٩٠٠ء، مکتوبات حالی، ١٦٢:٢ ) ٣ - تاج شاہی (ان معنوں میں بعض قدیم شعرا نے مذکر لکھا ہے) مرگ استبداد جس کے پاؤں کی زنجیر ہے جس کی آزادی کلاہ و تاج کی تقدیر ہے ( ١٩٥٩ء، نبض دوراں، ٩ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - مخروطی شکل کی ٹوپی جسے پہن کر اوپر سے پگڑی باندھتے ہیں۔ "چار ٹوپیاں اور کلاہیں اور چھ ہاتھ کی لکڑیاں جو مولوی محمد اشرف نے کرنال سے بھیجی تھیں، وہ بھی پہنچیں۔" ( ١٩٠٠ء، مکتوبات حالی، ١٦٢:٢ )