کلمہ
معنی
١ - [ قواعد ] وہ بامعنی لفظ جو آدمی کے منہ سے نکلے، بامعنی بول۔ "کلمہ (بول): وہ لفظ جس سے صرف ایک (مفرد) معنی مراد لیے جائیں۔" ( ١٩٨٢ء، اردو قواعد، ٧ ) ٢ - لفظ، قول، بات، فقرہ۔ "مالک! پھر بھی وہ ہم سب پر حاوی ہے اور آپ کو ایسے کلمے زبان سے نہ نکالنے چاہیے۔" ( ١٩١٤ء، پیاری زمین، ٣٣٣ ) ٣ - [ شرع ] وہ جملہ جو بالعموم ایمان کے اقرار کے لیے ادا کیا جائے کلمہ شریف۔ "پہلا کلمہ بچے کو چھوٹی سی عمر ہی سے سکھا دینا چاہیے۔" ( ١٩٧٨ء، روشنی، ٢٤٤ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - [ قواعد ] وہ بامعنی لفظ جو آدمی کے منہ سے نکلے، بامعنی بول۔ "کلمہ (بول): وہ لفظ جس سے صرف ایک (مفرد) معنی مراد لیے جائیں۔" ( ١٩٨٢ء، اردو قواعد، ٧ ) ٢ - لفظ، قول، بات، فقرہ۔ "مالک! پھر بھی وہ ہم سب پر حاوی ہے اور آپ کو ایسے کلمے زبان سے نہ نکالنے چاہیے۔" ( ١٩١٤ء، پیاری زمین، ٣٣٣ ) ٣ - [ شرع ] وہ جملہ جو بالعموم ایمان کے اقرار کے لیے ادا کیا جائے کلمہ شریف۔ "پہلا کلمہ بچے کو چھوٹی سی عمر ہی سے سکھا دینا چاہیے۔" ( ١٩٧٨ء، روشنی، ٢٤٤ )