کلید
معنی
١ - کنجی، چابی، تالی۔ آساں ہوتی ہے صبر سے ہر مشکل ہر قفل میں یہ کلید ٹھیک آتی ہے ( ١٩٥٥ء، رباعیات امجد، ٦٠:٣ ) ٢ - خلاصہ، شرح، حل۔ "بہت پہلے زندگی اور مسرت کی کلید محبت میں تھی۔" ( ١٩٨٧ء، ششماہی غالب،١، ١٦١:٢ ) ٣ - مشرح، نکتہ، و ضاحتی نکتہ۔ "مبصروں نے اس مصرعے کو بیسویں صدی کے مزاج کی کلید سے تعبیر کیا ہے۔" ( ١٩٨٨ء، نگار، کراچی، اکتوبر، ٤٩ ) ٤ - ٹائپ رائٹر کی کنجی جس پر حرف لکھے ہوتے ہیں اور ٹائپ کرتے وقت انگلی سے دباتے ہیں۔ "ٹائپ رائٹر میں مختلف کلیدوں پر مختلف حروف قائم کیے جاتے ہیں۔" ( ١٩٦٥ء، ادب و لسانیات، ١٧٧ ) ٥ - تربوز "تربوز کو سردا و کلید کہتے ہیں۔" ( ١٨٤٦ء، کھیت کرم، ١٣ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - خلاصہ، شرح، حل۔ "بہت پہلے زندگی اور مسرت کی کلید محبت میں تھی۔" ( ١٩٨٧ء، ششماہی غالب،١، ١٦١:٢ ) ٣ - مشرح، نکتہ، و ضاحتی نکتہ۔ "مبصروں نے اس مصرعے کو بیسویں صدی کے مزاج کی کلید سے تعبیر کیا ہے۔" ( ١٩٨٨ء، نگار، کراچی، اکتوبر، ٤٩ ) ٤ - ٹائپ رائٹر کی کنجی جس پر حرف لکھے ہوتے ہیں اور ٹائپ کرتے وقت انگلی سے دباتے ہیں۔ "ٹائپ رائٹر میں مختلف کلیدوں پر مختلف حروف قائم کیے جاتے ہیں۔" ( ١٩٦٥ء، ادب و لسانیات، ١٧٧ ) ٥ - تربوز "تربوز کو سردا و کلید کہتے ہیں۔" ( ١٨٤٦ء، کھیت کرم، ١٣ )