کنجوس

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - بخیل، خسیس، شوم، تنگ دل۔ "میں نے پھر حکومت کے دروازے کھٹکھٹائے تو انھیں کسی کنجوس کی تجوری کی طرح بند ہی پایا۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٢٠ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ صفت ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٥٤ء کو "تحفہ الاحباب" کے حوالے سے مولوی ذکاء اللہ کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بخیل، خسیس، شوم، تنگ دل۔ "میں نے پھر حکومت کے دروازے کھٹکھٹائے تو انھیں کسی کنجوس کی تجوری کی طرح بند ہی پایا۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٢٠ )