کنیز
معنی
١ - خدمت گار عورت، باندی، بندی، لونڈی۔ "سلطان چاہتا تو اس کو روز اول سے ہی کنیز بنا کر ڈال یتا۔" ( ١٩٣٩ء، افسانۂ پدمنی، ١٤١ ) ٢ - اپنی ذات کو کم مرتبہ یا کم حیثیت ظاہر کرنے کے لیے خاکسار کمترین کی جگہ، عموماً خط عرضی وغیرہ کے خاتمے پر مستعمل ہے۔ "یہ حقیر تحفہ . آپ قبول فرما لیجیے تو آپ کی ذرہ نوازی ہے، آپ کی کنیز، قیصر۔" ( ١٩٣٦ء، گرداب حیات، ٧٥ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے اسم و کنیک یا کنیعا سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٦ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خدمت گار عورت، باندی، بندی، لونڈی۔ "سلطان چاہتا تو اس کو روز اول سے ہی کنیز بنا کر ڈال یتا۔" ( ١٩٣٩ء، افسانۂ پدمنی، ١٤١ ) ٢ - اپنی ذات کو کم مرتبہ یا کم حیثیت ظاہر کرنے کے لیے خاکسار کمترین کی جگہ، عموماً خط عرضی وغیرہ کے خاتمے پر مستعمل ہے۔ "یہ حقیر تحفہ . آپ قبول فرما لیجیے تو آپ کی ذرہ نوازی ہے، آپ کی کنیز، قیصر۔" ( ١٩٣٦ء، گرداب حیات، ٧٥ )