کوری

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - کرا جس کی یہ تانیث ہے، غیرمستعمل، آرے سے نکلی ہوئی، بے بہرہ خالی، صاف شفاف، بے داغ، جس پر میل یا دھبا نہ ہو، نااہل، بے صلاحیت، ناتجربہ کار، اچھوتی۔ "بغل میں شربت کی کوری ٹھلیا سر پہ قاتحہ کی ٹرے۔"      ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ١٣٣ ) ٢ - [ کنایتہ ]  باکرہ، کنواری۔  انواسی ہے کوری نہیں گوری نہیں رنڈی اس پر بھی سرکار کی منظورِ نظر آج      ( ١٩٢١ء، دیوان | یختی، ٣٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ صفت 'کورا' سے 'ا' حذف کر کے اس کی جگہ 'ی' بطور لاحقہ تانیث لگانے سے متشکل ہوا جو اردو میں بطور صفت ہی استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٩٧٩ء کو "کلیات قلق میرٹھی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کرا جس کی یہ تانیث ہے، غیرمستعمل، آرے سے نکلی ہوئی، بے بہرہ خالی، صاف شفاف، بے داغ، جس پر میل یا دھبا نہ ہو، نااہل، بے صلاحیت، ناتجربہ کار، اچھوتی۔ "بغل میں شربت کی کوری ٹھلیا سر پہ قاتحہ کی ٹرے۔"      ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ١٣٣ )

جنس: مؤنث