کوزہ
معنی
١ - آب خورہ، پانی پینے کا چھوٹا ظرف جو چوڑے منھ کا ہوتا ہے۔ "ایک ٹکڑا نانِ جویں اور کوزہ آبِ سرد بھی اطمینان کے ساتھ نہیں ملتا۔" ( ١٩٤٥ء، مولانا ظفر علی خاں بحیثیت صحافی، ١٢٤ ) ٢ - مٹی کا برتن۔ "مئی جون میں جب تاڑ کے درختوں کی شاخیں میٹھے رس سے بھر جاتیں . چھوٹا بھائی مٹی کا کوزہ لے کر درخت پر چڑھ جاتا۔" ( ١٩٨٨ء، یادوں کے گلاب، ٦٨ ) ٣ - مصری کا کوزہ، کوزہ میں جمایا ہوا شکر کا ڈلا۔ "مٹھائی سے مراد بڑے بڑے بالوشاہی اور مصری کے نوسے لے کر گیارہ تک کوزے ہیں۔" ( ١٩٠٥ء، رسوم دہلی، سید احمد دہلوی، ٥٣ ) ٤ - قفلی کوئی کہتا ہے اس آتش کا اِطفا سخت مشکل ہے مگر دے دو کوئی گر برف کا کوزہ جمایا ہے ( ١٨٥١ء، کلیاتِ مومن، ١٨٢ ) ٥ - نسرین سے مشابہ سفید رنگ کا پھول، گلاب کی ایک قسم۔ "کوزہ : شکل و قطع میں گلاب سے مشابہ ہے۔" ( ١٩٣٨ء، آئین اکبری (ترجمہ)، ٦١:١،١ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - آب خورہ، پانی پینے کا چھوٹا ظرف جو چوڑے منھ کا ہوتا ہے۔ "ایک ٹکڑا نانِ جویں اور کوزہ آبِ سرد بھی اطمینان کے ساتھ نہیں ملتا۔" ( ١٩٤٥ء، مولانا ظفر علی خاں بحیثیت صحافی، ١٢٤ ) ٢ - مٹی کا برتن۔ "مئی جون میں جب تاڑ کے درختوں کی شاخیں میٹھے رس سے بھر جاتیں . چھوٹا بھائی مٹی کا کوزہ لے کر درخت پر چڑھ جاتا۔" ( ١٩٨٨ء، یادوں کے گلاب، ٦٨ ) ٣ - مصری کا کوزہ، کوزہ میں جمایا ہوا شکر کا ڈلا۔ "مٹھائی سے مراد بڑے بڑے بالوشاہی اور مصری کے نوسے لے کر گیارہ تک کوزے ہیں۔" ( ١٩٠٥ء، رسوم دہلی، سید احمد دہلوی، ٥٣ ) ٥ - نسرین سے مشابہ سفید رنگ کا پھول، گلاب کی ایک قسم۔ "کوزہ : شکل و قطع میں گلاب سے مشابہ ہے۔" ( ١٩٣٨ء، آئین اکبری (ترجمہ)، ٦١:١،١ )