کومل

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - نازک، نرم، لطیف، ملائم۔ "ہندی میں یہ خوبی ہے کہ اس کے الفاظ نرم شیریں اور کومل ہیں"      ( ١٩٩٢ء، اردو نامہ، لاہور، مارچ ٢٣ ) ١ - [ موسیقی ]  ہلکا سر، اترا سر، وہ سُر جو سدہ سر سے ایک درجہ نیچے اتارا ہوا ہو، نیچے کا سُر۔ "کان لگا کر سنو تب بھی کہیں چین کا کومل راگ یا مدبھرا ترانہ سننے کو نہیں ملتا"      ( ١٩٨٤ء، قلمرو، ٢٠ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ صفت ہے، اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت اور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٤ء کو "بیتال پچیسی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نازک، نرم، لطیف، ملائم۔ "ہندی میں یہ خوبی ہے کہ اس کے الفاظ نرم شیریں اور کومل ہیں"      ( ١٩٩٢ء، اردو نامہ، لاہور، مارچ ٢٣ ) ١ - [ موسیقی ]  ہلکا سر، اترا سر، وہ سُر جو سدہ سر سے ایک درجہ نیچے اتارا ہوا ہو، نیچے کا سُر۔ "کان لگا کر سنو تب بھی کہیں چین کا کومل راگ یا مدبھرا ترانہ سننے کو نہیں ملتا"      ( ١٩٨٤ء، قلمرو، ٢٠ )