کون

قسم کلام: ضمیر استفہام

معنی

١ - کسی شخص یا ذات کی حیثیت و نوعیت معلوم کرنے کے لیے (ذوِی العقول کے لیے)۔ 'کون' کو اسم ضمیر اس لیے کہا گیا کہ اس میں کسی نامعلوم شخص کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور 'کون' بطور قائم مقام اسم کے آتا ہے کچھ کہے سنے بغیر الٹے پاؤں پھر پلٹی اور تیزی سے اپنی راہ پر ہوئی عثمان سوچتا ہی رہ گیا کہ یہ لڑکی کون بنت کون ہے۔      ( ١٩٩١ء، قومی زبان، کراچی، ستمبر، ٦٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے اردو میں آیا۔ پراکرتوں میں بھی مستعمل رہا ہے اور ١٤٢١ء میں حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز نے دکنی ادب کی تاریخ میں استعمال کیا۔