کوکو

قسم کلام: اسم صوت

معنی

١ - فاختہ، قمری اور کویل کی آواز۔ "بارش کی بوچھاڑیں، آم کے درختوں میں کوئل کی کُوکُو، جھولے جھولنے والیوں کے گیت، میں برآمدے میں بیٹھا اداس ہو جاتا۔"      ( ١٩٨٨ء، یادوں کے گلاب، ١٤٧ ) ٢ - کبوتر اڑاتے وقت کبوتر باز کی آواز۔ "کہیں کوکو، کبوتر اڑائے جا رہے ہیں کہیں سبزدار مرغیوں کے انڈے لڑ رہے ہیں۔"      ( ١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ١٢ )

اشتقاق

حکایت الصوت سے ماخوذ کلمہ ہے جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیات دلی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فاختہ، قمری اور کویل کی آواز۔ "بارش کی بوچھاڑیں، آم کے درختوں میں کوئل کی کُوکُو، جھولے جھولنے والیوں کے گیت، میں برآمدے میں بیٹھا اداس ہو جاتا۔"      ( ١٩٨٨ء، یادوں کے گلاب، ١٤٧ ) ٢ - کبوتر اڑاتے وقت کبوتر باز کی آواز۔ "کہیں کوکو، کبوتر اڑائے جا رہے ہیں کہیں سبزدار مرغیوں کے انڈے لڑ رہے ہیں۔"      ( ١٩١١ء، قصہ مہر افروز، ١٢ )

جنس: مؤنث