کوکھ
معنی
١ - پہلو کے نیچے کی جگہ، جہاں ہڈی نہیں ہے۔ سنبھلے نہ ابھی تھے کہ لگا گرزِ گراں سر نیزہ جو لگا کوکھ میں غش کر گئے سرور ( ١٩٢٧ء، شاد، مراثی، ٩٤:٢ ) ٢ - کسی چیز کا پہلو، کنارہ۔ "سارا دن چولہے کی کوکھ میں بیٹھے بیھٹے ان کی کمر ٹیڑھی ہو جاتی" ( ١٩٦٢ء، آنگن، ١٤٥ ) ٣ - پیٹ، شکم، بطن۔ "ایک امید والی ماں کی طرح جو روز بروز اپنی کوکھ میں رینگنے والی جان کی سرکشی محسوس کرتی ہے" ( ١٩٨٧ء، روز کا قصّہ، ١١٥۔ ) ٤ - [ مجازا ] اولاد "اب اس کا بدلہ اس نے یہ دیا کہ میری کوکھ کو برباد کرنے نکلا" ( ١٩٢٤ء، پنجاب میل، ٧٨ ) ٥ - کسی چیز کا اندرونی کھوکھلا حصّہ۔ "مشتری، زحل، یورانس. کے بیرونی حصّے میں گیس اور اندرونی حصّے میں رقیق مادہ ہوا اور ان کی کوکھ میں قدرے پختہ ہو" ( ١٩٧٣ء، خلا میں پرواز، ١٤ )
اشتقاق
پراکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٩٤ء کو 'جنگ نامۂ دو جوڑا' میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - کسی چیز کا پہلو، کنارہ۔ "سارا دن چولہے کی کوکھ میں بیٹھے بیھٹے ان کی کمر ٹیڑھی ہو جاتی" ( ١٩٦٢ء، آنگن، ١٤٥ ) ٣ - پیٹ، شکم، بطن۔ "ایک امید والی ماں کی طرح جو روز بروز اپنی کوکھ میں رینگنے والی جان کی سرکشی محسوس کرتی ہے" ( ١٩٨٧ء، روز کا قصّہ، ١١٥۔ ) ٤ - [ مجازا ] اولاد "اب اس کا بدلہ اس نے یہ دیا کہ میری کوکھ کو برباد کرنے نکلا" ( ١٩٢٤ء، پنجاب میل، ٧٨ ) ٥ - کسی چیز کا اندرونی کھوکھلا حصّہ۔ "مشتری، زحل، یورانس. کے بیرونی حصّے میں گیس اور اندرونی حصّے میں رقیق مادہ ہوا اور ان کی کوکھ میں قدرے پختہ ہو" ( ١٩٧٣ء، خلا میں پرواز، ١٤ )