کٹھور
معنی
١ - سنگ دل، بے رحم، بے حس، ظالم۔ "وہ کہتی تھیں بابا لاپروا اور کٹھور ہیں، کسی کے دکھ میں شامل نہیں ہو سکتے۔" ( ١٩٨٢ء، پرایا گھر، ١٥٨ ) ٢ - سخت، کڑا، مضبوط۔ "جب جوانی آئی تب شریر کٹھور (سخت) ہوتا ہے۔" ( ١٨٩٠ء، جوگ بششٹھ (ترجمہ)، ٣١:١ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٠٣ء کو "پریم ساگر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - سنگ دل، بے رحم، بے حس، ظالم۔ "وہ کہتی تھیں بابا لاپروا اور کٹھور ہیں، کسی کے دکھ میں شامل نہیں ہو سکتے۔" ( ١٩٨٢ء، پرایا گھر، ١٥٨ ) ٢ - سخت، کڑا، مضبوط۔ "جب جوانی آئی تب شریر کٹھور (سخت) ہوتا ہے۔" ( ١٨٩٠ء، جوگ بششٹھ (ترجمہ)، ٣١:١ )