کچوکا

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - نوکدار چیز سے گودا ہوا نشان۔ "ان کچوکوں سے میرے زخموں کے ٹانکے پھر سے کھل گئے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٤٣٨ ) ٢ - طعن، تشنیع، طنز۔ "بلا سے وہ اچھا تھا، یہ روز روز کے کچوکے اور ہر وقت کی آفت تو نہ تھی۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٣٠ ) ٣ - ٹھیس، ضرب، جھٹکا (مجازاً)، نشترزنی، احساسِ ندامت، ملامت۔ "دل اور ضمیر کے کچوکے احساسِ غمِ کو دگنا کر دیتے ہیں۔"      ( ١٩٦٤ء، آبلہ پا، ٢٥٩ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٩٠٦ء کو "الحقوق والفرائض" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نوکدار چیز سے گودا ہوا نشان۔ "ان کچوکوں سے میرے زخموں کے ٹانکے پھر سے کھل گئے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتش چنار، ٤٣٨ ) ٢ - طعن، تشنیع، طنز۔ "بلا سے وہ اچھا تھا، یہ روز روز کے کچوکے اور ہر وقت کی آفت تو نہ تھی۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٣٠ ) ٣ - ٹھیس، ضرب، جھٹکا (مجازاً)، نشترزنی، احساسِ ندامت، ملامت۔ "دل اور ضمیر کے کچوکے احساسِ غمِ کو دگنا کر دیتے ہیں۔"      ( ١٩٦٤ء، آبلہ پا، ٢٥٩ )

جنس: مذکر