کڑھنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - رنجیدہ ہونا، افسوس کرنا، جی جلانا۔  جی ہی دینے کا نہیں کڑھنا فقط اس کے در سے جانے کی حسرت بھی ہے      ( ١٩٨٥ء، اسلوبیات میر، ٧١ ) ٢ - [ کنایۃ ]  دل سوزی کرنا، ہمدردی کرنا۔ "انسان کی غربت اور افلاس پر میرا دل کڑھتا تھا۔"      ( ١٩٨٨ء، یادعہد رفتہ، ٦٧ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ مصدر ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور فعل لازم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٧٤٦ء کو "قصہ مہر افروز و دلبر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ کنایۃ ]  دل سوزی کرنا، ہمدردی کرنا۔ "انسان کی غربت اور افلاس پر میرا دل کڑھتا تھا۔"      ( ١٩٨٨ء، یادعہد رفتہ، ٦٧ )