کڑیل
معنی
١ - طاقت ور، قدآور۔ اسی دھرتی پر آج شہر جمیل کتنی اونچی ہے کتنی کڑیل ہے ( ١٩٧٠ء، مرے خدا، مرے دل، ٦٤ ) ١ - آگ کا بڑا ٹھیکرا۔ "سامنے کڑیل میں اُپلا دبا ہے اور اس طاقت میں تمباکو رکھا ہے۔" ( ١٩٤٧ء، مضامینِ فرحت، ١٠٧:٢ )
اشتقاق
پراکرت سے ماخوذ اسم صفت 'کڑا' کی تخفیف 'کڑ' کے بعد 'یل' بطور لاحقۂ صفت لانے سے متشکل ہوا جو اردو میں بطور صفت نیز بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٦٦ء کو "جادۂ تسخیر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - آگ کا بڑا ٹھیکرا۔ "سامنے کڑیل میں اُپلا دبا ہے اور اس طاقت میں تمباکو رکھا ہے۔" ( ١٩٤٧ء، مضامینِ فرحت، ١٠٧:٢ )