کھارا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - نمکین، شور۔ "کھارے پانی کے نکاس کے لیے ١٥٠ ٹیوب ویل لگیں گے۔"      ( ١٩٧٧ء، معاشی جغرافیۂ پاکستان، ٣٥ ) ٢ - تلخ، ناگوار۔  بے حیا ہے تو بے نمک ہے حسن گو کہ نمکین ہے پے کھارا ہے      ( ١٧١٨ء، دیوانِ آبرو، ٤٨ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم صفت ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٩١ء کو "رسالہ وجودیہ" کے حوالے سے حاتم کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نمکین، شور۔ "کھارے پانی کے نکاس کے لیے ١٥٠ ٹیوب ویل لگیں گے۔"      ( ١٩٧٧ء، معاشی جغرافیۂ پاکستان، ٣٥ )

جنس: مذکر